Saturday, March 01, 2014

تلاش
(رانا عمؐار فاروق)

قلبِ مضطرب کو تیری یاد ترساتی ہے
روحِ بیچین کو تیری آس تڑپاتی ہے

تیرے تذکرے سے نم ہوتی ہیں آنکھیں
تیرے ذکر سے کٹ جاتی ہیں راتیں

حضور تیرے کھڑے رہیں شب بھر
پر جبیں یہ تیرے قدم کو ڈھنڈلاتی ہے

اس کیفیتِ خود فراموشی میں اِک لذتِ آشنائی ہے
تیری ذات کے رنگوں میں ہر سمت رنگ آئی ہے

زباں کثرتِ ندأِ یارسے تھک جاتی ہے
پر سانس تیرے نام کو دھراتی جاتی ہے

تیرے رخِ روشن کی چمک رنگ دیتی ہے روح میری
تیری صوتِ کرم کر دیتی ہے نشورِ خشوع میری

اس نشیمنِ ویراں کی اجنبیت کی خاک چھانتے
میرے وطنِ اصل کی خوشبو کی داستاں دی تو نے
کہاں میں جذبِ محویتِ افلاکِ لامتناہی تھا
تو نے مجھے غرقِ حقیقتِ نفسانی کر ڈالا

جہاں میں ماورائیتِ قیدِ حدود کا متلاشی تھا
تو نے مجھے متصفِ لا مکانی کر ڈالا

تیری ذات کے تعقب میں خود کو کھو لینے دے
تیری یاد کی رفعت میں سب رنگ بھرنے دے

سو لینے دے اس خواب گاہِ پرکشش میں

پر بیدار کر پوشاکِ عاشقاں کے تلے

Tuesday, March 06, 2007

"من کنت مولا فاھذا علي مولا"

"جس کا ميں مولا ہوں، اسکا علي مولا ہے۔"

جس نے ديکھا، مر ہی گيا

تيری چشم سياہ ميں ہے جادو

غير کا دھوکا مجھ کو نہ دے

تجھ ميں ميں، مجھ ميں تو

افلاک سے لائ جاتی ہے

سينوں ميں چھپائ جاتی ہے

توحيد کی ميہ ساگر سے نہيں

آنکھوں سے پلائ جاتی ہے

پہنچ گيا ہوں در يار تک مقدر سے

ورنہ سب ميرے سجدے ادھر ادھر ہوتے

تيرے در کے فقير ہيں ہم لوگ

کيا امير و کبير ہيں ہم لوگ

دونوں عالم کی قيد سے آزاد

ايک تيرے اسير ہيں ہم لوگ

جس نے ديکھا مر ہی گيا

تيری چشم سياہ ميں ہے جادو

ہم فقيروں سے دوستی کر لو

گر سکھا ديں گے بادشاہی کے

ساقی تجھے قسم ہے جناب امير کی

بہتی پھرے شراب میں کشتی فقير کی

Tuesday, July 18, 2006

آشنائ



کتے نے پانی ميں اپنا عکس ديکھ کر منہ ميں دبائ ہڈی گنوا دی۔۔۔
 
شايد ہم نے بھی آپ ميں خود کو پا کر اپنا دل دے ديا۔
 
 
کل شب تيری تصوير كى ضرورت پڑی۔
ميرے کمرے ميں آئينہ نہيں تھا۔

Tuesday, May 23, 2006

سبق لازوال


اے ميرے دوست، ميرے رفيق خيال۔ اٹھ کر ميرا ہاتھ تھام۔ تيرے الفاظ اور حسين رو خيال کی مجھے اشد ضرورت ہے۔ ميں تسکين خوش فہم کا منتظر ہوں۔

 

ميں صدا حاضر و موجود ہوں ميرے مالک۔ پر تو مجھ سے اميد نہ رکھ۔ ميں تو صرف تيرے خيالات و الفاظ کو مادی حقيقت ديتا ہوں۔ ميرے الفاظ تيرے ہی خيالات ہيں اور بس۔ ميری اپنی حقيقت تيری سوچ اور منشا کے علاوہ اور کچھ نہيں۔ تو اميد مجھ سے نہیں، خود سے رکھ۔

 

پر اے ميرے قلم، اس حيات ميں اک تو ہی تو ہے ميرا يار تنہائ، شريک

تمنا، آرزو و ارتقاء باقی۔

 

ميرے آقا ميں وہ سب کچھ ہوں جو تو مجھے بنانا چاہتا ہے۔ اور کچھ نہيں۔

 

سوچتا ہوں کہ نظم کہی جاۓ۔ کہتے ہيں احساسات اور الفاظ ميں اس سے بہتر و برتر کوئ تعلق ثانی نہيں۔

 

تو اتنا بھی شاعر نہيں۔ کيا اپنی بے چارگی کا مزاک بناۓ گا۔ رديف کافيہ ہو گا يا بھڑاس خود قسمتی؟

 

ہممم۔۔۔

 

روز مرہ زندگی کے کچھ واقعات و حوادث يا محض عام پہلو ايسے ہوتے ہيں جو انسان کی روح پر مہر حقيقت صلب کيۓ جاتے ہيں۔ اور يہ کلی سچائياں ايسی ہوتی ہيں کہ انکو الفاظ و بياں ميں بھی نہيں ماپا جا سکتا۔ جب دل کی آنکة کةل جاۓ تو ايمان باقی نہيں رہتا۔ بلکہ اس کے باقی رہنے کی ضرورت ماؤف ہو جاتی ہے۔ آگ ميں جل جانے کے بعد ےہ بحث قابل گفت نہيں رہتی کہ آتش کدہ گرم ہے يا ٹھندا۔ جل اور اگنی پر وشواس کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ جو ديکھتے ہيں وہ ايمان کا سہارا نہيں ليتے۔

بس يہ کہ ميری ترلوچن جو کھلی ہی تھی، پر سے خودی کا بے داغ پردہ اتر گيا۔ خودی کو کرے گا بلند اتنا توخدا بندے سے خود پوچھے گا " درد خود نفسی کے واستے پيدا کيا انسان کو؟"

اگر ميں اپنی عمومی ڈھٹائ پر باضد نہ رہوں تو يہ مقام ميری زندگی کا پہلا محور تفريق ہو۔ راستے کا وہ مقام جہاں سڑکيں بٹتی ہيں۔ ميری لوچن اور ميرا صدر قلب، سب ديکھتے تھے۔ ميں سب جانتا تھا۔ يہ بھی کہ کفايت کا مطلب کلی ہوتا ہے۔ کيا ميں اسے بھول گيا؟

"ميں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا۔ " جی ہاں، باب المدينہ العلم۔ جنہيں اپنی ہر دعا کا انجام معلوم ہوتا تھا۔ کيا دعا نہ مانگنے کا انجام معلوم ہوتا تھا؟ کيا مجھے بھی معلوم نھيں تھا؟ پر پھر بھی 'خودی' کا سہارا ليا۔ کيا خودی خدائ کے رنگ ميں خدائ کی جگہ لے سکتی ہے؟ کفايت حاصل کر سکتی ہے؟ يہ وہ حقيقتيں ہيں جن کو قلم تک لانے کے ليۓ ميرے پاس الفاظ نہيں ہيں۔ کم از کم، آج، اس وقت، لمحہء حاضر ميں نہيں ہيں۔

کوئ نہيں۔ بس۔ آج واقئ سمجھ سکا ہوں کہ فنائيت ميں معراج کس طرح حاصل ہوتی ہے۔

جب کچھ نہ تھا تو تو تھا

کچھ نہ ہوگا تو تو ہوگا۔

تو ہی کافی ةہے، تيرے سوا کچھ نہيں۔ سب تيرے حوالے۔

توکل۔

بخدا۔

 

- رانا عمار فاروق

مئی ٢٠٠٦ ع

اسلام آباد

Thursday, July 08, 2004

عشق ناتمام


اک عجب سی کشمکش مین مبتلا ہوں ميں
اک شخص سے ملا تھا جسے بھلا نہ سکا میں

ہو گیا ہے اس دن کو گزرے اک عرصہ دراز اب
مگر احساسات میرے ٹھہر ہی گۓ ہیں اب تلک

بیت گیا وقت اتنا کہ اب تو شاید اس کا چہرہ بھی بھول گیا
کیا نام تھا اس کا، کیا تھا کام، تھی وہ کیا، سب بھلا بیٹھا

اب تو شاید یہ بھی نہ پتہ ہو کہ چاہا تھا کیوں اسے
پر پھر بھی بھلایا نہیں جاتا اسے

کچھ یاد نہیں پر پھر بھی یاد ہے اس کی دل فریبی
وہ حسن و خوبصورتی، وہ جمال و آشتی

اس دن کا تو تھا موسم بھی خوشگوار
جیسے ہمیشہ سے مجھے اسی کا تو تھا انتظار

مل کر میں اس سے اپنا دل ہی کھو بیٹھا،
‎ہوا جب ٹکراؤ تو فلک بھی دہک بیٹھا

کیا آواز تھی اس کی، نہیں ہے مجھے یاد
پر یقیں ہے میرا کہ تھی بہت گفتار

اک مہک تھی ایسی جسے سونگھ نہ پایا کبھی
پر پھر بھی سیدھی اس دل کو جا لگی

تھا اس صبح کا موسم کافی حد تک گرم
پر جھلکا جب حسن اس کا بادل بھی رو بیٹھا

اک احساس ا ٹھا میرے جزبات میں جسے رنگ نہ کوئ دے سکا
کیا نام ہے اس احساس کا کوئ فن نہ کہہ سکا

مین تو بس اک دیوانہ ہوں اس کی شاءستگی کا آج تک
کاش کہ مر گیا ہوتا اس کے دیدار سے پہلے اک پل۔

وہ روپ، وہ اداءیں، کنول سی رنگت، شیشہ کی شفاقی، پانی کا بہاؤ، بلبل کی صداءیں، چاند نی مین بسی ہواءیں، سر کی ترنگ؛ سب آ بکھرے اس محبت کے انگ

لیکن افسوس ۔ ۔ ۔ صد افسوس؛ کہ اظہار نہ کیا میں نے
اس کے بعد کبھی دیکھا بھی نہ اسے؛

یہ نین ترس کر سوکھ گۓ بس اک دیدار کے لیۓ
یہ دل دہک گیا آرزو یار کے لیۓ

کاش کہ کہہ سکوں اس سے کہ میرا عشق لے اڑا ہے مجھے ستاروں سے بھی آگے
کہ شاید شریک ہو جاۓ وہ اس تنہا سفر مین میرے؛
کہ شاید ہی سمجھ پاۓ میری چاہت ، میرا پیار، میرا عشق، مین بیقرار، سب اس کے لیۓ

کیونکہ وہی تو ہے میرا دل، میری جان، میری آرزو میرا سپنا، میرا نسیب، میرا قرار، میری امنگ و ترنگ؛ تو ہی تو ہے میرا پیار

میرا پیار مجھے یاد ہے وہ شویوار،
اے کاش تجھے بھی یاد ہو۔


Dedicated to Saturday, the 1st of March 2003 C.E. - the day India beat Pakistan in the long awaited O.D.I. and it rained un-reservedly.

- رانا عمار فاروق الپیال
جمعرات 8 جولائ 2004ء،
اسلام آباد۔