Tuesday, July 18, 2006

آشنائ



کتے نے پانی ميں اپنا عکس ديکھ کر منہ ميں دبائ ہڈی گنوا دی۔۔۔
 
شايد ہم نے بھی آپ ميں خود کو پا کر اپنا دل دے ديا۔
 
 
کل شب تيری تصوير كى ضرورت پڑی۔
ميرے کمرے ميں آئينہ نہيں تھا۔

Tuesday, May 23, 2006

سبق لازوال


اے ميرے دوست، ميرے رفيق خيال۔ اٹھ کر ميرا ہاتھ تھام۔ تيرے الفاظ اور حسين رو خيال کی مجھے اشد ضرورت ہے۔ ميں تسکين خوش فہم کا منتظر ہوں۔

 

ميں صدا حاضر و موجود ہوں ميرے مالک۔ پر تو مجھ سے اميد نہ رکھ۔ ميں تو صرف تيرے خيالات و الفاظ کو مادی حقيقت ديتا ہوں۔ ميرے الفاظ تيرے ہی خيالات ہيں اور بس۔ ميری اپنی حقيقت تيری سوچ اور منشا کے علاوہ اور کچھ نہيں۔ تو اميد مجھ سے نہیں، خود سے رکھ۔

 

پر اے ميرے قلم، اس حيات ميں اک تو ہی تو ہے ميرا يار تنہائ، شريک

تمنا، آرزو و ارتقاء باقی۔

 

ميرے آقا ميں وہ سب کچھ ہوں جو تو مجھے بنانا چاہتا ہے۔ اور کچھ نہيں۔

 

سوچتا ہوں کہ نظم کہی جاۓ۔ کہتے ہيں احساسات اور الفاظ ميں اس سے بہتر و برتر کوئ تعلق ثانی نہيں۔

 

تو اتنا بھی شاعر نہيں۔ کيا اپنی بے چارگی کا مزاک بناۓ گا۔ رديف کافيہ ہو گا يا بھڑاس خود قسمتی؟

 

ہممم۔۔۔

 

روز مرہ زندگی کے کچھ واقعات و حوادث يا محض عام پہلو ايسے ہوتے ہيں جو انسان کی روح پر مہر حقيقت صلب کيۓ جاتے ہيں۔ اور يہ کلی سچائياں ايسی ہوتی ہيں کہ انکو الفاظ و بياں ميں بھی نہيں ماپا جا سکتا۔ جب دل کی آنکة کةل جاۓ تو ايمان باقی نہيں رہتا۔ بلکہ اس کے باقی رہنے کی ضرورت ماؤف ہو جاتی ہے۔ آگ ميں جل جانے کے بعد ےہ بحث قابل گفت نہيں رہتی کہ آتش کدہ گرم ہے يا ٹھندا۔ جل اور اگنی پر وشواس کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ جو ديکھتے ہيں وہ ايمان کا سہارا نہيں ليتے۔

بس يہ کہ ميری ترلوچن جو کھلی ہی تھی، پر سے خودی کا بے داغ پردہ اتر گيا۔ خودی کو کرے گا بلند اتنا توخدا بندے سے خود پوچھے گا " درد خود نفسی کے واستے پيدا کيا انسان کو؟"

اگر ميں اپنی عمومی ڈھٹائ پر باضد نہ رہوں تو يہ مقام ميری زندگی کا پہلا محور تفريق ہو۔ راستے کا وہ مقام جہاں سڑکيں بٹتی ہيں۔ ميری لوچن اور ميرا صدر قلب، سب ديکھتے تھے۔ ميں سب جانتا تھا۔ يہ بھی کہ کفايت کا مطلب کلی ہوتا ہے۔ کيا ميں اسے بھول گيا؟

"ميں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا۔ " جی ہاں، باب المدينہ العلم۔ جنہيں اپنی ہر دعا کا انجام معلوم ہوتا تھا۔ کيا دعا نہ مانگنے کا انجام معلوم ہوتا تھا؟ کيا مجھے بھی معلوم نھيں تھا؟ پر پھر بھی 'خودی' کا سہارا ليا۔ کيا خودی خدائ کے رنگ ميں خدائ کی جگہ لے سکتی ہے؟ کفايت حاصل کر سکتی ہے؟ يہ وہ حقيقتيں ہيں جن کو قلم تک لانے کے ليۓ ميرے پاس الفاظ نہيں ہيں۔ کم از کم، آج، اس وقت، لمحہء حاضر ميں نہيں ہيں۔

کوئ نہيں۔ بس۔ آج واقئ سمجھ سکا ہوں کہ فنائيت ميں معراج کس طرح حاصل ہوتی ہے۔

جب کچھ نہ تھا تو تو تھا

کچھ نہ ہوگا تو تو ہوگا۔

تو ہی کافی ةہے، تيرے سوا کچھ نہيں۔ سب تيرے حوالے۔

توکل۔

بخدا۔

 

- رانا عمار فاروق

مئی ٢٠٠٦ ع

اسلام آباد