Saturday, March 01, 2014

تلاش
(رانا عمؐار فاروق)

قلبِ مضطرب کو تیری یاد ترساتی ہے
روحِ بیچین کو تیری آس تڑپاتی ہے

تیرے تذکرے سے نم ہوتی ہیں آنکھیں
تیرے ذکر سے کٹ جاتی ہیں راتیں

حضور تیرے کھڑے رہیں شب بھر
پر جبیں یہ تیرے قدم کو ڈھنڈلاتی ہے

اس کیفیتِ خود فراموشی میں اِک لذتِ آشنائی ہے
تیری ذات کے رنگوں میں ہر سمت رنگ آئی ہے

زباں کثرتِ ندأِ یارسے تھک جاتی ہے
پر سانس تیرے نام کو دھراتی جاتی ہے

تیرے رخِ روشن کی چمک رنگ دیتی ہے روح میری
تیری صوتِ کرم کر دیتی ہے نشورِ خشوع میری

اس نشیمنِ ویراں کی اجنبیت کی خاک چھانتے
میرے وطنِ اصل کی خوشبو کی داستاں دی تو نے
کہاں میں جذبِ محویتِ افلاکِ لامتناہی تھا
تو نے مجھے غرقِ حقیقتِ نفسانی کر ڈالا

جہاں میں ماورائیتِ قیدِ حدود کا متلاشی تھا
تو نے مجھے متصفِ لا مکانی کر ڈالا

تیری ذات کے تعقب میں خود کو کھو لینے دے
تیری یاد کی رفعت میں سب رنگ بھرنے دے

سو لینے دے اس خواب گاہِ پرکشش میں

پر بیدار کر پوشاکِ عاشقاں کے تلے

No comments: