Thursday, July 08, 2004

عشق ناتمام


اک عجب سی کشمکش مین مبتلا ہوں ميں
اک شخص سے ملا تھا جسے بھلا نہ سکا میں

ہو گیا ہے اس دن کو گزرے اک عرصہ دراز اب
مگر احساسات میرے ٹھہر ہی گۓ ہیں اب تلک

بیت گیا وقت اتنا کہ اب تو شاید اس کا چہرہ بھی بھول گیا
کیا نام تھا اس کا، کیا تھا کام، تھی وہ کیا، سب بھلا بیٹھا

اب تو شاید یہ بھی نہ پتہ ہو کہ چاہا تھا کیوں اسے
پر پھر بھی بھلایا نہیں جاتا اسے

کچھ یاد نہیں پر پھر بھی یاد ہے اس کی دل فریبی
وہ حسن و خوبصورتی، وہ جمال و آشتی

اس دن کا تو تھا موسم بھی خوشگوار
جیسے ہمیشہ سے مجھے اسی کا تو تھا انتظار

مل کر میں اس سے اپنا دل ہی کھو بیٹھا،
‎ہوا جب ٹکراؤ تو فلک بھی دہک بیٹھا

کیا آواز تھی اس کی، نہیں ہے مجھے یاد
پر یقیں ہے میرا کہ تھی بہت گفتار

اک مہک تھی ایسی جسے سونگھ نہ پایا کبھی
پر پھر بھی سیدھی اس دل کو جا لگی

تھا اس صبح کا موسم کافی حد تک گرم
پر جھلکا جب حسن اس کا بادل بھی رو بیٹھا

اک احساس ا ٹھا میرے جزبات میں جسے رنگ نہ کوئ دے سکا
کیا نام ہے اس احساس کا کوئ فن نہ کہہ سکا

مین تو بس اک دیوانہ ہوں اس کی شاءستگی کا آج تک
کاش کہ مر گیا ہوتا اس کے دیدار سے پہلے اک پل۔

وہ روپ، وہ اداءیں، کنول سی رنگت، شیشہ کی شفاقی، پانی کا بہاؤ، بلبل کی صداءیں، چاند نی مین بسی ہواءیں، سر کی ترنگ؛ سب آ بکھرے اس محبت کے انگ

لیکن افسوس ۔ ۔ ۔ صد افسوس؛ کہ اظہار نہ کیا میں نے
اس کے بعد کبھی دیکھا بھی نہ اسے؛

یہ نین ترس کر سوکھ گۓ بس اک دیدار کے لیۓ
یہ دل دہک گیا آرزو یار کے لیۓ

کاش کہ کہہ سکوں اس سے کہ میرا عشق لے اڑا ہے مجھے ستاروں سے بھی آگے
کہ شاید شریک ہو جاۓ وہ اس تنہا سفر مین میرے؛
کہ شاید ہی سمجھ پاۓ میری چاہت ، میرا پیار، میرا عشق، مین بیقرار، سب اس کے لیۓ

کیونکہ وہی تو ہے میرا دل، میری جان، میری آرزو میرا سپنا، میرا نسیب، میرا قرار، میری امنگ و ترنگ؛ تو ہی تو ہے میرا پیار

میرا پیار مجھے یاد ہے وہ شویوار،
اے کاش تجھے بھی یاد ہو۔


Dedicated to Saturday, the 1st of March 2003 C.E. - the day India beat Pakistan in the long awaited O.D.I. and it rained un-reservedly.

- رانا عمار فاروق الپیال
جمعرات 8 جولائ 2004ء،
اسلام آباد۔

No comments: